Mout Ka Khof 38

موت کا خوف

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جائے۔تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے
اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پن چبھائی گئی اور قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی۔پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے۔اب یہ زہر کہاں سے آیا جس نے اس قیدی کی جان لے لی۔ وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا۔ ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے۔75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے۔آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے۔

مزید پڑھیے –استاد کی بچوں کو نصیحت

اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں۔25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے،50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا۔ زندگی خوبصورت ہے اس لیے ہمیشہ خوش رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں