information about christmas in urdu 153

کفار کو کرسمس یا نئے سال کے جشن یا کسی بھی ان کے دینی تہوار کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

کفار کو کرسمس یا نئے سال کے جشن یا کسی بھی ان کے دینی تہوار کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح اگر وہ ہمیں اپنے تہواروں کی مبارکباد دیں تو ان کا جواب دینا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ تہوار ہماری شریعت میں جائز نہیں ہیں اور ان کی مبارکبادی کا جواب دینے سے ان کے اس غیر شرعی عمل کا اعتراف اور اقرار لازم آتا ہے، اس لیے مسلمان کو اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے، شرعی احکامات پر عمل کو اپنے لیے اعزاز سمجھے، اور دوسروں کو دینِ الہی کی تبلیغ کرے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کرسمس پر کفار کو مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر وہ ہمیں کرسمس کی مبارکباد دیں تو ہم اس کا جواب کیسے دیں؟ کیا ہم کرسمس کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اور اگر مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز غیر ارادی طور پر کر لے تو کیا اسے گناہ بھی ہو گا؟ کیونکہ اس نے یہ کام مجاملت ، شرما شرمی یا مروت یا اسی طرح کے دیگر اسباب کی وجہ سے کیا ہے، تو کیا ایسی صورت میں ان کی مشابہت کرنا جائز ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
“سب علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کرسمس یا کفار کے دیگر مذہبی تہواروں پر مبارکباد دینا حرام ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” أحكام أهل الذمة ” میں نقل کیا ہے، آپ کہتے ہیں:
“کفریہ شعائر پر تہنیت دینا حرام ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے، مثال کے طور پر انکے تہواروں اور روزوں کے بارے میں مبارکباد دیتے ہوئے کہنا: “آپکو عید مبارک ہو” یا کہنا “اس عید پر آپ خوش رہیں” وغیرہ، اس طرح کی مبارکباد دینے والا اگرچہ کفر سے تو بچ جائے گا لیکن یہ کام حرام ضرور ہے، بالکل اسی طرح حرام ہے جیسے صلیب کو سجدہ کرنے پر اُسے مبارکباد دی جائے، بلکہ یہ اللہ کے ہاں شراب نوشی ، قتل اور زنا وغیرہ سے بھی بڑا گناہ ہے، بہت سے ایسے لوگ جن کے ہاں دین کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے ان کے ہاں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں، اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا برا کام کر رہا ہے، چنانچہ جس شخص نے بھی کسی کو گناہ، بدعت، یا کفریہ کام پر مبارکباد دی وہ یقیناً اللہ کی ناراضگی مول لے رہا ہے.

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
loading...

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں


Parse error: syntax error, unexpected '*' in /home/infomild/tv47.pk/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 3